6۔ یوگا کریائیں ۔یوگا میں صفائی کا عمل


آنکھ ‘ کان ‘ ناک ٗ منہ ٗہاتھ اورپیروغیرہ کو جسم کے بیرونی اعضاء قرار دیا جاتا ہے ۔ ان کے علاوہ ہمارے جسم میں کئی اندرونی اعضاء پائے جاتے ہیں ۔ ہم ہمارے بیرونی اعضاء کو دن میں دو یا تین مرتبہ یا جب بھی ان پر دھول گرد جم جائے صاف کرتے ہیں۔ ہم ان کی اس اعتبار سے صفائی کر تے رہتے ہیں کہ انہیں ہم دیکھ پاتے ہیں ۔ لیکن اندرونی اعضاء کے بارے میں کیا خیال ہے ؟۔ ان پر جمی گرد ‘ دھول ‘ دکھائی نہیں دیتی ہے اس لئے ہم انہیں بیرونی اعضاء کی طرح صاف کرنے پر کوئی دھیان نہیں دیتے ۔ اندرونی اعضاء یا حصوں کی صفائی بیرونی اعضاء کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے۔ ہمارے منی ویوگیوں نے جسم کے اندرونی اعضاء پر جمی غیر ضروری نجس اشیاء کی صفائی کے کئی طریقے وضع کیے ہیں ۔ یہ یوگا کرنے سے قبل یا بعد میں کئے جاسکتے ہیں ۔ یوگا میں صفائی کے چھ بڑے طریقے ہیں ۔

نیتی کریائیں : جل (پانی)‘ شیر ( دو دھ)‘ تیل ‘ گھرت ( گھی ) ‘ سترا( ڈوری )‘ سومترا ( خود کا
پیشاب ) ‘ گاؤمترا ( گائے کا پیشاب )نیتی کریاس (ناک کی صفائی کے طریقے )
دھاوتی کریائیں : جل (پانی)‘ وامنا (قئے ) ٗوسترا(کپڑا)‘ ڈنڈا ‘ دھاؤتی کریاس (پیٹ کی صفائی کے طریقے )
وستی کریا : وستی ( اینما ) اور شنکھ پرکشالن ( بڑی آنت کی صفائی کے طریقے )۔
ناؤلی کریائیں:اگنی سار ٗاودیان ‘ نابی ( پیٹ کے اعضاء کو صاف کرنے کے لئے نابی گھمانے کے طریقے )۔
کپال بھاتی: بھستریکا ۔ کپال بھاتی ( دماغ کو تازہ کرنے کے لئے طاقت سے سانس لینے کے طریقے )۔
تراتک ۔مسلسل گھورنا ( آنکھ کی صفائی کے طریقے )

ناک ‘ کان ‘ منہ اور حلق کو باالعموم نیتی طریقوں سے صاف کیا جاتا ہے جب کہ پیٹ کو دھاوتی ‘ آنت کو انیما ‘ شکم کو ناولی ‘ دماغ کو کپال بھاتی اور آنکھوں کو تراتک طریقوں سے صاف کیا جاتا ہے ۔ یہچھعوامل نازک اعضاء سے متعلق ہیں چنانچہ ان کی پریکٹس کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسے آزمانے سے قبل کسی ماہر سے مشورہ کرے ۔ انہیں ماہرین کی موجود گی اور رہنمائی میں پانچ تا چھ مرتبہ کیا جانا بہتر ہوتا ہے ۔اس کے بعد انہیں از خود کیا جاسکتا ہے ۔

1۔ نیتی کریا(ناک کی صفائی کے طریقے )۔

ناک کی صفائی ( ناک کی صفائی کے طریقے ) ان دنوں لازمی بن چکے ہیں ۔ چونکہ باالخصوص ٹاونس اور شہروں کی آب و ہوا آلود گی کی انتہاء کو پہنچ چکی ہے ۔ نیتی کریاس ‘ ناک کی صفائی میں مدد کرتے ہیں ۔

-1(۱)۔جل نیتی کریا۔

تھوڑا سا عام نمک ہلکے گرم پانی میں تحلیل کیا جائے اور اسے فلٹر کیا جائے ۔ اسے خصوصی طرز پر تیار کردہ ٹیوب والے ایسے لوٹے میں بھرا جائے جس میں Nozzle لگا ہوا ہو ۔کھڑے ہو کر تھوڑا سا آگے جھکئے ۔ اب سر کو دائیں جانب تھوڑا سا جھکایا جائے ۔ پھرلوٹے کے Nozzle کو دائیں نتھنی پر رکھ کر لوٹے کو اس انداز سے جھکایا جائے کہ پانی نتھنی میں داخل ہوجائے ۔ اب صرف منہ سے ہی سانس لی جائے اور باہرچھوڑی جائے ۔ دائیں نتھنی میں داخل کیا گیا پانی بائیں نتھنی سے ناک کی گرد کے ساتھ از خود باہر نکل آئے گا ۔ لوٹا بھر پانی دائیں نتھنی میں ڈالا جائے ۔ اب سر کو دوسری جانب موڑا جائے اور اس لوٹا بھر پانی سے یہی طریقہ دہرایا جائے ۔ اس پور ے عمل کے دوران سانس صرف منہ سے ہی لینی چاہیے ۔ دونوں نتھنیوں کو صاف کرنے کے بعد انگوٹھوں سے کان بند کئے جائیں ۔ منہ سے سانس لیتے ہوئے اسے طاقت کے ساتھ بائیں نتھنی سے چھوڑا جائے ۔اس طرح منہ سے بھر پور سانس لی جائے اور پھر منہ بند کرتے ہوئے اور پورا زور لگا کر دائیں نتھنی سے سانس چھوڑی جائے ۔ بعد میں دونوں نتھنیوں سے سانس چھوڑی جائے ۔ پانی کا آخری بوند نتھنیوں سے خارج ہونے تک اسی عمل کو دہرایا جائے ۔ اگر نتھنیوں میں پانی کی بوند یں رہ جائیں تو اس سے زکام ہوسکتا ہے ۔ خصوصی طور پر تیار کردہ پیتل کے لوٹے یا پلاسٹک کے نیتی لوٹے یوگا کیند راؤں میں دستیاب ہوتے ہیں ۔ اُوپر بتائے گئے طریقے سے ہر روز ناک کو صاف کرنا صحت کے لئے بہتر ہوتا ہے ۔


(۲) برتر طریقہ

گرم نمکین پانی نیتی لوٹے یا گلاس میں لیا جائے ۔ پانی ایک نتھنی سے اندر لیتے ہوئے منہ سے چھوڑا جائے ۔ اسے دوسری نتھنی سے بھی دہرایا جائے ۔ باری باری دونوں نتھنیوں سے یہ مشق کرنے کے بعد ایک کشادہ کپ کے ذریعہ بہ یک وقت دونوں نتھنیوں سے پانی اندر لیا جائے اور منہ سے چھوڑا جائے ۔ بعد میں منہ سے پانی لیا جائے اور اسے طاقت سے نتھنیوں کے ذریعہ باہر نکالاجائے ۔ یہ تھوڑا مشکل عمل ہے ۔

(۳) جل ناسپان ( ناک سے پانی پینا )

نتھنیوں کو اچھی طرح سے صاف کرنے کے بعد ناک کے ذریعہ پانی پینے کو جل ناسپان کہا جاتا ہے ۔ اس عمل میں پانی نتھنیوں سے اندر لیا جاتا ہے اور اسے ایک یا دو مرتبہ تھوکا جاتا ہے اس کے بعد پانی آرام سے جس طرح سے منہ سے پیا جاتا ہے اس طرح سے ناک سے پیا جائے ۔

2 ۔شیرانیتی کریا

اس طریقے میں جل نیتی کی طرح ؍ نمکین پانی کی بجائے ہلکا سا گرم فلٹر کیا ہوا دودھ لیا جاتا ہے ۔ دودھ ٗ نیتی لوٹے میں بھرا جاتا ہے اور جل نیتی کے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں ۔ اگر دودھ تھوڑا گاڑھا ہوتو اسے پتلا کرنے کے لئے تھوڑا سا گرم پانی ملایا جائے اور یہ عمل شروع کرنے سے قبل اسے فلٹر کیا جائے ۔

نوٹ : جل نیتی کریا کے بعد شیرانتی کریا لازماً کیا جانا چاہیے۔

3۔ سومترا (خود کا پیشاب )؍گاؤمترا(گائے کا پیشاب )نیتی طریقے

علی الصبح خود کا پیشاب نیتی برتن میں لیاجائے اور جل نیتی کا عمل کیا جائے ۔ اس طرح گائے کا تازہ پیشاب بھی اسی طریقے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ شیرا ‘ سومترا ‘ گاؤ مترا نیتی کریائیں کبھی کبھار کئے جانے چاہئیں جس کے بعد جل نیتی کیا جائے ۔

4۔ تیل ‘ گھرت (گھی ) نیتی کریائیں۔

پیٹ کے بل لیٹ کر سر کو تھوڑا سا پیچھے موڑا جائے ۔ پانچ یا چھ قطرے گرم تیل یا گھی نتھنیوں کے ذریعہ ڈالا جائے اور اسی حالت میں کچھ دیررہا جائے ۔ کھوپرے کا تیل یا کوئی بھی خوردنی تیل یا گھی استعمال کیا جائے ۔ یہ عمل دوپہر میں یا پھر رات میں سونے سے قبل کیا جائے ۔

5۔ سترا؍ ربرنیتی کریا

خصوصی طور پر تیار کردہ کپاس کا دھاگا یا 18 سینٹی میٹرلامبا اور تین تا چار ملی میٹر دبیزربر Catheter دائیں نتھنی میں ڈالا جائے اور دو انگلیوں کی مدد سے اسے منہ سے نکالا جائے ۔ بعد میں دونوں سِروں کو پکڑ کر پانچ تا دس مرتبہ آگے پیچھے کیا جائے جس کے بعد منہ سے دھاگا نکالا جائے ۔ اسی طرح دوسری نتھنی سے بھی یہ عمل دہرایا جائے ۔ جب دھاگا ڈالا جائے تو ناک سے سانس لی جائے اور منہ سے باہر کی جائے ۔ سترانیتی کے بعد گرم پانی سے کچھ دیر غرارہ کیا جائے جس کے بعد جل نیتی کریا کی جائے ۔

تجربہ کار لوگ دونوں نتھنیوں میں دو دھاگے باندھ کر اس انداز میں ڈال سکتے ہیں کہ باقی کا دھاگا دوسری نتھنی سے نکالا جاسکتاہے ۔

نوٹ : تمام نیتی کریا س کے بعد لازماًجل نیتی کریا اور پھر بھستریکا پرنائم کیا جائے ۔

جل نیتی کریاہر روز کی جاسکتی ہے جب کہ دیگر نیتی کریائیں ہفتہ میں ایک مرتبہ کی جائیں اور اس طرح ہر روز چند منٹ نکالتے ہوئے بہترین فوائد حاصل کئے جائیں ۔

فوائد
نیتی کریائیں ناک کی نالی کو صاف کرتے ہیں ۔ کان ‘ ناک ‘ حلق اور آنکھوں کی شکایتیں اس سے دور کی جاسکتی ہیں ۔ بہرے پن ‘ گنجے پن ‘ سرخ آنکھیں ‘ آنکھوں کا پانی ‘ ناک بھرنے ‘ کم یادداشت ‘ بھول چوک ‘ سر درد ‘میگرین وغیرہ کی صورتوں میں اس سے کافی فائدے دیکھے گئے ہیں ۔اس سے دماغ کو ٹھنڈا رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے جس سے بے چینی اوجھل پن اور منفی خیالات پر قابو پایا جاسکتاہے ۔نیتی کرنے والا ہمیشہ خوش اوربحال رہتا ہے ۔

II۔ دھاؤتی کریائیں( پیٹ کی صفائی کے طریقے )

دھاؤتی کے معنی صفائی کے ہیں ۔ اسے یوگا سائنس میں ادا راشدھی کہا جاتا ہے ۔

۱۔ جل وامن دھاؤتی کریا :

ہاتھی جب بیمار ہوتے ہیں تو یہ عمل اختیار کرتے ہیں ۔ اس لئے اسے کنجال کریا گجا کرنی ( کنجال= گجا= ہاتھی ) ۔ یوگیوں نے ہاتھیوں کو دیکھ کر یہ طریقہ اختیار کیا ۔ پانی کو ہلکا گرم کیا جاتا ہے ‘ پھر تھوڑا سا نمک ملایا جاتا ہے اور اسے فلٹر کیاجاتاہے ۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پیٹ بھرنے تک یعنی آٹھ تا دس گلاس پانی یکے بعد دیگرے پیا جاتاہے ۔ پھر سیدھے کھڑے ہوکر سر کو آگے ‘ پیچھے ‘ بائیں ‘ دائیں کیا جائے اور تین تا چار مرتبہ سیدھے اور الٹے گھمائیں ۔ اس عمل سے پیٹ میں جمع غیر ضروری ترشہ ‘ گیاس اورایسڈ ‘ پےئے ہوئے پانی سے جاملتے ہیں ۔ اب واش بیسن کے روبرو ٹھہر کر بائیں ہاتھ سے پیٹ دبا یا جائے اور پڑجیب کو سیدھے ہاتھ کی دوکھڑی انگلیوں سے ہلکے سے دبایا جائے ۔ اس سنسناہٹ سے پیٹ کا پانی فوارے کی طرح منہ سے نکل کر تماممجتمع ناکارہ اشیاء کو باہر کر دیتا ہے ۔

انگلیوں کو منہ میں دبائے رکھئے اور پڑجیب کو اس وقت تک دبائے رکھےئے جب تک پیا ہوا پورا پانی باہر نہ آجائے ۔ باالفرض محال اگر کچھ پانی رہ جاتا ہے تو وہ اجابت یا پیشاب کے ذریعہ باہر آجاتا ہے ۔
نوٹ : ہاتھ کے ناخن ترشے ہوئے ہونے چاہےئیں ورنہ منہ کے نازک حصے میں زخم ہوسکتا ہے جس سے خون بہنا شروع ہوسکتا ہے ۔ جب نمکین پانی سے غیر ضروری ترشہ مل جاتا ہے تو پانی کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے ۔ اس عمل کے دوران سرخ پانی باہر آسکتا ہے ۔ یہ خون نہیں ہوتا ۔ اس عمل کے بعد آروگیا امرتم یا گرم دودھ یا دونوں ہی پینے چاہئیں ۔ اس کے بعد کچھ دیر آرام ضروری ہوتا ہے ۔ اس عمل کے بعد اس دن مرچ مسالے کی چیزیں ٗپکوڑے ‘ مرچیاں وغیرہ نہیں کھانی چاہئیں ۔ نان ویجیٹرین کھانا بھی نہیں کھانا چاہیے۔ یہ عمل کم از کم ہفتہ میں ایک مرتبہ کیا جائے ۔ اگر ضرورت ہوتو دویا تین دن تک متواتر اس عمل کو دہرایا جاسکتا ہے ۔

نوٹ :ہائی بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا لوگ نمک کی بجائے لیمبو پانی پی سکتے ہیں ۔ السر ‘ عارضۂ قلب یا پیٹ کی خرابی کے شکار لوگ یا حاملہ خواتین یہ عمل ہر گز نہ کریں ۔

فوائد ۔
پیٹ صاف ہوجاتا ہے ۔ گیاسس کی شکایت ‘ قبض ‘ بد ہضمی ‘ ترشہ ‘ پیٹ میں جلن ‘ سردرد وغیرہ سے آرام ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ جسم کا زائد وزن بھی بتدریج گھٹناشروع ہوجاتا ہے ۔ اگر اسے پابندی سے دہرایا جائے تو یرقان کبھی نہیں ہوسکتا ۔ سانس کے شکایتسے دوچار لوگوں کو راحت ملتی ہے ۔

۲۔ وسترا دھاؤتی کریا۔

تین انچ چوڑا اور سات میٹر لمبا ‘ پتلا اور صاف ململ کا تکڑا لیا جائے ۔ اسے کچھ دیر کے لئے ہلکے گرم نمکین پانی میں بھگویا جائے ۔ کسی ماہر کی نگرانی میں اسے انچ در انچ نگلا جائے تا وقتیکہ ہاتھ میں اس کا آخری سرا رہ جائے ۔ کپڑے کا بیرونی سرا ‘ انگلیوں سے باندھ لیا جائے تاکہ یہ پورااندرنہچلا جائے۔ ابتداء میں صرف 12تا 15 انچ کا کپڑا نگلا جائے اور اسے آہستہ آہستہ باہر نکالا جائے ۔ عام طور پر مکمل کپڑے کے ساتھ مشق میں پانچ تا دس دن ہوتے ہیں ۔وسترا دھاتی کریا کے بعد جل دھاوتی کریا لازم ہے ۔ اس کے بعد لازماً گرم دودھ پیا جائے ۔ وسترا دھاوتی کریاکے دن اور اس سے ایک دن قبل صرف ہلکی غذاء کھائی جائے ۔

نوٹ: متواتر سات دن تک جل دھاوتی کریا کے بعد ہی وسترا دھاوتی کریا کی مشق کی جانی چاہیے۔ شکایتوں کے دور ہونے تک اسے روز کیا جائے۔اس کے بعد ہفتہ میں ایک وقت کیا جاسکتا ہے۔ ۔

فوائد
کھانسی ‘ phlegm‘ دمہ ‘ گیاسس اور پھیپھڑوں اور پیٹ کی شکایتیں ‘ سر درد ‘ بخار ‘ جلدی بیماریاں مثلاً ‘ خارش وغیرہ اس عمل سے دور ہوتے ہیں اور ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے ۔پیٹ کی صفائی کے لئے یوگی اورمنی لکڑی کی ایک خاص چھڑی نگلا کرتے تھے ۔ اسے ڈنڈا دھاوتی کریا کہا جاتا تھا ۔ اب یہ عمل کرنے والوں کی تعداد کم سے کم تر ہوگئی ہے اور صرف چند یوگی ہی یہ عمل کرتے ہیں ۔

III۔ وستی کریا ( انیما )

لیمبو کا رس یا نمک گرم پانی میں ملایاجائے اور اسے انیما کے مٹکے میں بھرا جائے ۔ انیما کے مٹکے کے سوراخ میں ایک ربر کا ٹیوب لگایا جائے ۔ربر ٹیو ب کا دوسرا سرا لیٹی ہوئی کیفیت میں مقعد) (anus میں لگا یا جائے ۔ بڑی آنت میں پانی داخل ہوگا ۔ پیٹ کو ہتھیلیوں سے مساج کیا جائے ۔ نجس چیزیں انیما کے پانی کے ساتھ باہر آجائیں گی ۔ اس لئے بیت الخلاء کے نزدیک اس کی مشق کی جانی چاہیے۔

قدیم زمانے میں رشی اور یوگی پانی کے ٹب ‘ ندی یا تالاب میں بیٹھ کر مقعدکے ذریعہ پانی کو پیٹ میں کھینچتے تھے ۔ ان کی قوت ارادی انہیں اس عمل میں مدد دیتی تھی۔ لیکن اب صرف چند ہی لوگ رہ گئے ہیں جو یہ عمل کرسکتے ہیں ۔ اس لئے ان دنوں انیما کے طریقے کے ذریعہ پانی بآسانی اندر داخل کیا جاتا ہے ۔

جب ہم پانیخارج کرتے ہیں تو بڑی آنت میں جمع گیاس ‘ ترشہ اور دیگر نجس اشیا باہر نکل آتی ہیں ۔ انیما کے بعد کچھ دیر آرام کیا جانا چاہیے اور اس دن ہلکی غذاء استعمال کرنا چاہیے ۔ انیما خالی پیٹ میں ناشتہ سے قبل لیا جائے ۔ انیما ‘ ہفتے میں ایک مرتبہ یا جب بھی ضرورت محسوس ہو لیا جاسکتاہے۔

فوائد ۔
بڑی آنت اچھی طرح سے صاف ہوجاتی ہے ۔قبض اور بد ہضمی دور ہوتی ہے اور بھوک بڑھتی ہے ۔

IV۔ ناولی ۔ اگنی سار ۔ اودین کریائیں

ناؤلی کریاؤں میں سانس کا عمل شامل رہتا ہے ۔ان کریاؤں میں سانس لینا ‘ سانس روکے رکھنا اور سانس چھوڑنا اہم رول ادا کرتے ہیں ۔

۱۔اگنی سار کریا

فرش پر اچھا سا کپڑا ‘ چادر یا بلینکٹ بچھائی جائے اور اس پر وجراسن میں بیٹھا جائے اور تھوڑا سا آگے جھکتے ہوئے سانس پوری اندر لی جائے اور پوری باہر نکالی جائے ۔ پیٹ کو اندر کیا جائے اور اس حالت میں جتنی دیر ہوسکے رہا جائے ۔آہستہ سے ہوا اندرلی جاتی ہے اور پیٹ کے تمام اجزاء بتدریج معمول کی حالت میں آجاتے ہیں ۔اسے ایک چکرا یا ایک راونڈ کہا جاتا ہے ۔ تین یا چار مرتبہ اس کی پریکٹس کرنی چاہیے۔ اگنی سار کرکھڑے ہو کر بھی اسی طرح سے کیا جاسکتاہے ۔بعض ماہرین اسے دھاوتی کریا قرار دیتے ہیں ۔

۲۔اودیان کریا

چھوٹے سے تکیہ پرسکھ آسن یا پدماسن میں بیٹھا جائے ۔پہلے بھر پورسانس اندرلی جائے اور پھر چھوڑی جائے ۔سانس باہر چھوڑ کر پیٹ کو اس طرح اندر کیا جائے گویایہ ریڑھ کی ہڈی کو چھو رہا ہو ۔ کچھ دیر تک اس حالت میں رہنے کے بعد سانس آہستہ سے اندر لی جائے ۔ اسے تین تا چار مرتبہ دہرایا جائے ۔ یہ عمل کھڑے رہ کر بھی اسی انداز میں کیا جاسکتا ہے ۔

ناؤلی کریا

اگنی سارکریا اور ادیان کریائیں صحیح طور پر کرنے کے بعد ہی ناولی کریا آزما ئی جائے ۔ اس مشق میں پیٹ کے بیچ کے حصے کو ایک پائپ کی طرح بنانا اہم ہوتا ہے ۔ اس میں مشق کرنے والے کو پہلے کھڑے ہوکر ہاتھ ران پر رکھتے ہوئے سانس کو زیادہ سے زیادہ اندر لیتے ہوئے اسے مکمل طور پر با ہر چھوڑناہوتا ہے۔ اب پیٹ کو اس طرح سے اندر کیا جائے کہ یہ ریڑھ کی ہڈی کو چھونے کے قریب ہوجائے ۔ اس مرحلہ پر پیٹ کا بیچوں بیچ کا حصہ ایک کھڑے پائپ کی مانند ہوجاتاہے ۔ آہستہ سے ایک ہاتھ ‘ ران پر سے ہٹایا جائے اور اسے اوپر اُٹھایاجائے ۔ پائپ کی مانند پیٹ ایک طرف سے دوسری جانب مڑتا ہے ۔ اس کے بعد دوسرا ہاتھ اٹھایا جائے اور یہی عمل دہرایا جائے ۔

نوٹ: ناؤلی کریا ضرور یات سے فارغ ہونے کے بعد ناشتے سے قبل خالی پیٹ کریں ۔ اسے کھانے کے بعد کبھی نہ کریں ۔ ۱۴ سال سے کم عمر کے بچے ‘ بخار یا ہائی بلیڈ پریشر ‘ السرمیں مبتلا لوگ اور حاملہ خواتین کو ناولی کریا نہیں آزما نا چاہیے ۔

فوائد
ناولی کریا سے پیٹ اور جگر کی بیماریاں دور ہوتی ہیں ‘ ہاضمہ بڑھتا ہے امکانی خرابیاں دور ہوتی ہیں ۔ ناولی کریامثلاًدرمیانی ناولی ‘ بائیں ناولی ‘ دائیں ناولی وغیرہ کسی ماہر کی نگرانی میں ہی لازماً کی جائیں ۔

v۔ کپال بھاتی ۔بھستریکاکریائیں۔

۱۔کپال بھاتی

یہ دماغ اور سرکے اوپری حصے کو صاف کرنے کا عمل ہے ۔ پوری سانس نابی تک لی جائے اور زیادہ سے زیادہ طاقت سے تین تا چار مرتبہ چھوڑی جائے ۔سانس اندرلینے کا عمل قدرتی طور پر ہونا چاہیے جب کہ سانس دانستہباہر چھوڑی جائے ۔ سانس ‘ ناک کے ذریعہ آواز کے ساتھ باہر چھوڑی جائے ۔

فوائد
اس عمل سے سونچنے کی اہلیت بڑھتی ہے ‘ خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور یادواشت اور معلومات میں اضافے میں مدد ملتی ہے ۔ اس سے چہرہ دلکش بنتا ہے ۔

۲۔بھستریکا

بھستریکا بھی کپال بھاتی کریا ہے ۔ سانس بغیر توقفکے متواتر اندرلی جاتی ہے اور باہر چھوڑی جاتی ہے ۔کپال بھاتی میں زور سے سانس باہر کرنا ضروری ہوتا ہے جب کہ بھستریکا میں سانس کا اندر لینا اور باہر چھوڑنا دونوں ہیمساوی طور پر طاقت سے کیے جاتے ہیں ۔

فوائد
بھستریکا سے گیاس ‘ کم ہوتی ہے قبض اور ترشے میں کمی آتی ہے۔

نوٹ :کپال بھاتی کریا اور بھستریکا دونوں میں ہی سانس لیتے وقت پیٹ پھلانا چاہیے اور سانس چھوڑتے وقت پیٹ اندرکھینچ لینا چاہیے۔

VI۔ تراتک کریا

کسی شئے کو مسلسل گھورنے کو تراتک کہا جاتا ہے ۔

۱۔ یہ آنکھ کا عمل ہے ۔ ایک ہی حالت میں بغیر ہلے جلے کے ایک شئے کو مسلسل گھورا جائے جو ہم سے تقریباً دو فیٹ دورہو ۔اور جو دیوار پر ہماری آنکھ کی اونچائی سے متوازی ہو اسے جہاں تک ممکن ہوسکے بغیر پلک جھپکائے گھوراجائے ۔

۲۔ ایک جلی ہوئی موم بتی کسی چھوٹے میز یا تپائی پر ہمارے آنکھ کے متوازی لمبائی پر رکھی جائے اور اس کے دوفٹ دور بیٹھا جائے ۔ اس کے بعد جہاں تک ممکن ہوسکے تراتک کریا کی جائے ۔

۳۔ انگوٹھا اونچا کیے ہاتھ کو سیدھا رکھا جائے ۔ انگوٹھے کو جہاں تک ممکن ہوسکے متواتردیکھا جائے ۔

۳۔ انگوٹھا اونچا کیے ہاتھ کو سیدھا رکھا جائے ۔ انگوٹھے کو جہاں تک ممکن ہوسکے متواتردیکھا جائے ۔
اگر کسی کو آنکھ میں جلن محسوس ہویا آنکھ میں پانی آجائے تو فوری اس عمل کو روک دینا چاہیے ۔ یہی طریقہ آنکھ بند کئے خیالوں میں بھی دہرایا جائے ۔

۴۔آنکھ کی صفائی
تراتک کریا کے بعد آنکھوں کی صفائی کے خصوصی کپ کااستعمال کرتے ہوئے جو یوگا کیندر میں دستیاب ہوتے ہیں آنکھوں کو پانی سے صاف کیا جائے ۔ آنکھوں کی صفائی کے دوکپ کو صاف پینے کے پانی سے بھرا جائے ۔سرنیچا کیے ان کپوں کو بند آنکھوں کے قریب لایا جائے پلک جھپکتے ہوئے آہستہ سے سراُٹھایئے تاکہ پانی آنکھوں میں داخل ہوجائے اور آنکھیں صاف ہوجائیں ۔ چند سکنڈ بعد آنکھوں کے کپ ہٹا لیجئے اور پانی پھینک دیجئے بعد میں تازہ پانی ڈالتے ہوئے اسی طریقہ کو دہراےئے ۔

فوائد ۔
آنکھوں کی بیماریوں کو روکا جاسکتا ہے ۔ بینائی میں تیزی لائی جاسکتی ہے‘سونچنے کی صلاحیت بڑھتی ہے قوت ارادی میں اضافہ ہوتا ہے اور دماغ چین و سکون محسوس کرتا ہے۔


لوگ یہ چھ طریقے کیا کرتے تھے ۔ قدیم دنوں میں یہ روز مرہ کی زندگی کا معمول تھے لیکن ان دنوں ہمیں خصوصی طور پر انہیں قصداً کرنا پڑتا ہے چونکہ ہر طرف ہوا میں آلودگی ہے ‘ پانی میں گندگی ہے اور غذاء میں ملاوٹ ہے ۔ ان حالات میں ان شت کریاؤں کی اہمیت دوبالا ہوگئی ہے اور ہر کسی کو اسے سیکھ کر اور اس کی مشق کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔